کتاب: قربانی کے احکام و مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں - صفحہ 48
اور ابوداؤد کی روایت میں ہے:"إن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أوصاني أن أضحي عنه فأناأضحي عنه" " نبی أكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سےقربانی کروں اس لئےمیں آپ کی طرف سے قربانی کرتاہوں " مندرجہ بالاروایت حددرجہ ضعیف ہونےکی وجہ سےناقابل اعتبارہے کیوں کہ اس کی سندمیں تین راوی معلول ہیں: 1 - شریک بن عبداللہ نخعی:ان کوعلمائےحدیث نےسوء حفظ کی بنیادپرضعیف قراردیاہے۔(دیکھیے:تہذیب التہذیب رقم (577)۔ 2 – شریک کےاستاد ابوالحسناء:یہ مجہول ہونےکی بناپرمتروک ہیں(دیکھیے:التقریب رقم (8053 )۔ 3 – حنش بن عبداللہ ابوالمعترالکنانی:ان کےمتعلق ابن حبان لکھتے ہیں:كان كثير الوهم في الأخبارينفردعن علي بأشياءلايشبه حديث الثقات حتى صارممن لايحتج به "(المجروحین(1/269)"یہ احادیث میں بہت زیادہ وہم کےشکارتھے، علی رضی اللہ عنہ سے بہت ساری روایتوں میں منفرد ہیں، جوثقات کی روایتوں کےمشابہ نہیں، یہاں تک یہ ان لوگوں میں سے ہوگئےجوناقابلِ احتجاج ہیں " منذری لکھتےہیں:" ان کےسلسلےمیں کئی ایک لوگوں نےکلام کیاہے "(دیکھیے:تحفۃ الاحوذی (5/79))دوم:وہ روایتیں جواس معنی میں صریح نہیں ہیں، جیسے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا قربانی کےوقت یہ دعاءکرنا:" اللهم تقبّل من محمدوآل محمدوأمة