کتاب: قربانی کے احکام و مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں - صفحہ 36
سوم:اگرکسی کی طرف سے نیّت نہیں کی ہےتوعدمِ نیّت کی وجہ سےکسی کی طرف سےقربانی نہیں ہوگی۔ اورایک قول کےمطابق صاحب جانورکی جانب سےقربانی ہوجائےگی اورذبح کرنےوالےنےاگرگوشت کوتقسیم کردیاہےتو اس کےاوپراس گوشت کاتاوان واجب ہوگا، الاّیہ کہ صاحب جانوراس کی تقسیم سے راضی ہوجا‏ئے۔ 8 – اگرقربانی کےلیے متعین جانورنےکوئی بچہ دیدیاتوتمام امورمیں بچہ اپنی ماں کےحکم میں ہوگا۔ اوراگرتعیین سےقبل پیداہواہےتواس کامستقل حکم ہوگااوروہ اپنی ماں کےتابع نہیں ہوگا(ملخصا من:احكام الاضحية والذكاة للعلامه الشيخ محمد بن صالح بن العثيمين رحمه الله)۔ قربانی کےجانورمیں شرکت کسی بھی جانورکی قربانی ایک گھرکی طرف سےکافی ہےجیساکہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےثابت ہےکہ آپ قربانی کرتے اورفرماتے: " أللهم تقبّل من محمدوآل محمدوأمة محمد" " اے اللہ محمد کی طرف سےاورمحمدکی آل واولاد کی طرف سےاورمحمد کی امّت کی طرف سے(میری یہ قربانی)قبول فرما " امام مالك نے موطأ میں اورامام ترمذی نے سنن میں صحيح سند کےساتھ أبوأيوب انصاری رضی اللہ عنہ سےروایت کیاہے:كان الرجل على عهد النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته فيأكلون ويطعمون "(موطأ:الضحايا/ 5(310)الترمذي:الأضاحي /10(1505)وابن ماجة:الأضاحي /10(3147)شيخ البانی نے صحيح سنن الترمذي(رقم 1216)كے اندر اس کی تصحیح کی ہے۔)"آدمی اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانےمیں اپنےاوراپنےگھروالوں کی طرف سےایک بکری قربانی کرتاتھا، پھر (گھروالے)خودکھاتے اور(دوسروں کو)کھلاتے "