کتاب: قربانی کے احکام و مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں - صفحہ 31
(3)– جانور"مسنہّ"ہو(یعنی جس کےاگلےدودانت ٹوٹ کرنکل آئے ہوں)، اگرمسنہّ نہ ملےتوبھیڑکےایک سال کےبچے کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ (4)– جانورحدیث میں مذکورعیوب سے پاک ہو، اوروہ عیوب مندرجہ ذیل ہیں: 1 – ایساکاناجس کاکاناپن ظاہرہو۔ 2 – ایسالنگڑاجس کالنگڑاپن ظاہرہو۔ 3 – اتنابیمارجس کی بیماری واضح ہو – 4 – ایسادبلاجس کی ہڈی نمایاں ہوجائے – انہیں عیب دارجانوروں پرقیاس کرتے ہوئے مندرجہ ذیل عیب دار جانوروں کی قربانی بھی جائزنہیں ہے: 1– سینگ ٹوٹا (اگرپیدائشی سینگ نہیں ہےتواس کی قربانی جائزہے ) 2 - اندھا۔ 3– قریب الولادۃ جس کی ولادت میں پریشانی آرہی ہو، یہاں تک کہ خطرہ ٹل جائے - 4– اونچائی سےگرنےیاگردن وغیرہ گُھٹنےکی وجہ سےموت سے دو چارجانور یہاں تک کہ خطرہ ٹل جائے - 5 – کمزوری کی بناپرچلنے پھرنےسےمعذور۔ 6 – اگلےیاپچھلے پاؤں میں سےکوئی کٹاہواہو۔ 7 – جس کاپیٹ بدہضمی کی وجہ سے پھولاہواہو یہاں تک کےاسے