کتاب: قرآن مقدس اور حدیث مقدس - صفحہ 66
پیارے صحابہ کی جماعت کو گرفت میں لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے پیارے ہیں تو مجھے کہا جائے گا تو جب سے ان سے جدا ہوکر دنیا سے چلا گیا تھا یہ برابر مرتد ہی ہوتے رہے تھے۔ ۔۔‘‘ جواب :۔ اس صحیح حدیث میں بھی مصنف نے خیانت کی ہے حدیث کے الفاظ کا مفہوم تبدیل کرکے الزام کا رخ صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف موڑ دیا جو کہ ایک حد تک کفر ہے اس حدیث میں جو مرتد لوگوں کے بارے میں آگاہی کی جارہی ہے وہ ہر گز ہرگز صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت نہیں بلکہ یہ محض ایک الزام ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دشمنی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو اس طرح ذکر فرماتے ہیں : ’’قال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم :أنا فرطکم علی الحوض لیرفعن الی رجال منکم۔ ۔۔ (صحیح بخاری کتاب الفتن باب ماجاء فی قول اللّٰه تعالیٰ واتقوا فتنۃ لاتصیبن۔۔۔۔ 7049) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض کوثر پر تم لوگوں کا پیش خیمہ ہونگا۔ اور تم میں سے کچھ لوگ مجھ تک اٹھائیں جائیں گے (میرے پاس لائے جائیں گے)جب میں ان کو (پانی)دینے کے لئے جھکونگا تو وہ ہٹادیئے جائیں گے میں عرض کرونگا پروردگار یہ تو میرے اصحاب ہیں ارشاد ہوگا تم نہیں جانتے کہ انہوں نے جو جو (دین میں ) نئی باتیں تمہارے بعد نکالیں ۔‘‘ حدیث پر غور فرمائیے کہ ان لوگوں کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا جائے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائیں گے ’’اصحابی‘‘ یعنی میرے اصحاب ، اصحاب سے کیا مراد ہے ؟یہ کون لوگ ہیں ؟مصنف نے تو لفظ اصحاب کو توڑ موڑکر صحابہ کی جماعت رضی اللہ عنہم پر پھیرا جو کہ دین میں خیانت ہے امام بخاری رحمہ اللہ کی فقہ کو خراج تحسین ہو کہ انہوں نے ایسے منکرین حدیث اور بد زبان کا منہ بند کرنے کے لئے ہر چند احادیث کا دفاع فرمایا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ حدیث ذکر کی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی امت میں سے بعد میں آنے والوں کو کیسے پہچانیں گے ؟ فرمایا کہ مجھے بتاؤ اگر کسی کی سفید چمکتی پیشانی اور سفید ٹانگوں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا۔ صحابہ نے جواب دیا کیوں نہیں !فرمایا : وہ لوگ آئیں گے اور ان کے اعضائِ وضو چمک رہے ہونگے۔ ۔۔۔۔۔۔۔‘‘