کتاب: قرآن مقدس اور حدیث مقدس - صفحہ 5
محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللّٰه مع امامتہ وتقدمہ فی معرفۃ الرجال وعلل الاحادیث۔ (المعرفۃ للبیہقی ج3ص217) ’ہم نہیں جانتے کہ حفاظ حدیث میں سے کسی نے روایوں کی تنقید میں اتنا اہتمام کیا ہو جتنا محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے کیا ہے وہ معرفت رجال اور علل حدیث کے سب سے فائق امام تھے۔ ‘‘ الحمد للہ امت کا اجماع ہے کہ بخاری میں تمام تر احادیث احادیثِ صحیحہ ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ صحیح بخاری کی صحت پر امت کا اجماع ہونے کے باوجودبھی اسے ہی کیوں تنقیدکانشانہ بنایا جارہا ہے ؟تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مذاہب کی جو بنیادی کتب ہیں انکا سو۱۰۰ فیصدصحیح ثابت کرنا ناممکن ہے لیکن اسلام وہ واحددین ہے جس کا سو۱۰۰ فیصدصحیح ہونا حقیقت ہے۔ مثلا مذہب مسیحت کو لے لیں۔ مذہب مسیحت :۔ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کو کتاب مقدس تسلیم کیا جاتا ہے اور وہ دراصل چار بڑے صحیفوں پر مشتمل ہے۔ 1) متی کی انجیل 2) مرقس کی انجیل 3) لوقاکی انجیل 4) یوحنا کی انجیل ان میں سے کوئی صحیفہ بھی عیسی علیہ السلام کا نہیں اور یہ کتابیں خود اس قدر مجہول الاصل ہیں کہ ان پر کچھ بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ (1) پہلی کتاب مسیح علیہ السلام کے حواری متی کی طرف منسوب ہے اور یہ تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ متی کی لکھی ہوئی نہیں ہے۔ متی کی اصل کتاب جس کا نام لوجیا (logia)تھا مفقود ہے۔ (2) دوسری کتاب مرقس کی طرف منسوب ہے اور عموما ً تسلیم کیا جاتا ہے کہ مرقس خود ہی اس کا مصنف ہے لیکن یہ ثابت ہے کہ وہ عیسی علیہ السلام سے نہیں ملا اور نہ ہی ان کے حواریوں میں سے ہے۔