کتاب: قرآن مقدس اور حدیث مقدس - صفحہ 48
’’عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ :انصار کی ایک یتیم لڑکی کی شادی میں میں دلہن کے ساتھ گئی جب لوٹ کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے دولہا والوں کے پاس جاکر کیا کیا ہم نے کہا سلام کیا اور مبارک باد دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک گانا بجانے والی لونڈی کو کیوں ساتھ نہ لے گئی جو دف بجاتی گاتی جاتی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کیا گاتی ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں گاتی ’’ہم آئے تمہارے گھر میں ہم آئے تمہارے گھر میں مبارک ہو ہم کو مبارک ہو تم کو بہت برکت ہووئے۔ ۔۔۔‘‘ اندازہ کیجئے جس گانے کو مصنف بے حیائی کی باتیں کہتا ہے یہی وہ الفاظ ہیں جو کہ اچھے اشعار کی صورت میں پڑھے گئے۔ یہ کسی بھی طرح سے قرآن کے خلاف نہیں ہے یعنی وہ بجانے والیاں محض دف ہی بجائیں اور بجانے والیاں بھی پیشہ ور نہ ہوں اور وہ اشعار بھی اس طرح کے تھے جوکہ حقیقت پر مبنی تھے جس میں جھوٹ کی ذرہ برابر بھی آمزش نہ تھی ،ان اشعار کو آج کے بے ہودہ شرکیہ وکفریہ گانوں پر استدلال کرنا سراسر ظلم ہے جوکہ حدیث دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے موسیقی کو حرام قراردیا ہے جس کو خائن مصنف نے نظر اندازکر دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اچھے اچھے اشعار پڑھنے والے لوگ موجود تھے لیکن وہ بھی اشعار شریعت کی حد میں رہتے ہوئے بغیر کسی موسیقی کے آلات کے پڑھے جاتے تھے۔ عظیم محدث شیخ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’تحریم الٓات الطرب ‘‘ صفحہ126میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ موسیقی کے بغیر ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اچھے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ لہٰذا مصنف کا اعتراض کالعدم ہے اور یہ اعتراض صرف افک پر مبنی ہے جو کہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ اعتراض نمبر 20:۔ مصنف نے اپنی کتاب کے صفحہ 57،58پراماںعائشہ رضی اللہ عنہاکے چھ برس کی عمر میں نکاح اور نو برس کی عمر میں رخصتی کوغلط ثابت کرنے کی کوشش کی اور وہ لکھتا ہے : قرآن کریم میں نکاح (شادی) کے لئے بلوغت کو شرط رکھا گیا ہے ’’حتی اذا بلغوا النکاح‘‘ کی نص خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ ۔۔لیکن بخاری صاحب اپنی روایت کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا