کتاب: قرآن مقدس اور حدیث مقدس - صفحہ 112
کا جنازہ بھی نہ پڑھا ا ور نہ اس کے لئے کوئی استغفار کیا۔۔۔۔۔ (صفحہ72-73) جھوٹ نمبر 18(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : قرآن مقدس میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو شئے مسلمانوں کے لئے ضرررساں ہو اور اس سے کبھی نفع کی توقع نہ ہو تو اس کو مٹادیا جانا چاہیئے۔(صفحہ81) جھوٹ نمبر 19(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : قرآن پاک جن حروف جن الفاظ جن کلمات کے ساتھ اترا تھا اور جس قرأت کے ساتھ نازل کیا گیا تھا اسی ہئیت وکیفیت اور اقدار کے ساتھ پوری دنیا میں موجود ہے کوئی حرف وقرأت ایسی نہیں جو اس موجودہ قرآن کے علاوہ ہو یہی قرآن ہی اپنی ہئیت وکیفیت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا۔ (صفحہ 84-85) جھوٹ نمبر 20(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : قرآن کی بے ادبی میں سے ہے کہ پڑھنے والا پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے بجائے سننے کے پڑھا جائے خواہ کچھ بھی پڑھا جائے خواہ حدیث ہی کیوں نہ پڑھی جائے کیونکہ اس سے قرآن کی پڑھائی میں لڑھ اور تخلیط وتخریب کاری ہوگی جسکو قرآن نے بیان کردیا کہ یہ وطیرہ کافروں کا ہے۔ (صفحہ86) جھوٹ نمبر 21(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : کافروں کا قدیم زمانہ سے پیشہ چلاآرہا ہے پڑھنے والا اپنا فریضہ ادا کررہا ہو اور پڑھ رہا ہو خواہ تبلیغ کے لئے خواہ عبادت کے لئے تو کافر چونکہ قرآن کی آواز سننا نہیں چاہتا لہٰذا اس کے عین مقابلہ میں نعت خوانی،دوہڑابازی،شروع کردیگا قال قال رسول اللہ ، کی لڑھ مچادیگا یا کسی گویے کو تلاوت قرآن شروع کروادیگا۔ (صفحہ87) جھوٹ نمبر 22(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔ اللہ سے دعا کرتے ہوئے اور اس کا ذکر کرتے ہوئے چیخنا چلانا اور جہرکرنایہ شان