کتاب: قرآن مقدس اور حدیث مقدس - صفحہ 110
جھوٹ نمبر 10(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : قرآن مقدس میں ایک نہیں بیسیوں آیات صراحت کے ساتھ کہتی ہیں کہ موت کے بعد کوئی مردہ نہیں سن سکتا اسباب سننے کے مردے سے ختم ہوجاتے ہیں۔ (صفحہ43) جھوٹ نمبر 11(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : قرآن مقدس میں مردہ کے کلام کرنے کو محال کہا گیا ہے۔ (صفحہ47) جھوٹ نمبر 12(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : قرآن مقدس میں اللہ تعالیٰ اور خلیل اللہ علیہ السلام کا ایک مکالمہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے درخواست کی کہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ نے حضرت خلیل علیہ السلام سے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی خلیل اللہ نے عرض کی کے مجھے(علم الیقن اور حق الیقن تو ہے لیکن میں عیاناً آنکھ سے عین الیقین حاصل کرنے کے لئے عرض کررہا ہوں کہ) دکھادیجئے وہ کیفیت جس حالت میں تو مردوں کو زندہ کرے گا تو اس پر اللہ نے (مشفقانہ انداز سے)فرمایاکیاتو (آنکھوں سے معائنہ کے بغیر )اس کی تصدیق نہیں کرے گا تو خلیل اللہ نے عرض کیا (کیونکر تصدیق نہ کروں بالکل مجھے یقین ہے )میں تو صرف اطمینان قلب کی خاطر درخواست گزارہوں(اور اس میں صرف کیفیت وحالت دیکھنا چاہتاہوں ورنہ شک کی تیری قدرت میں گنجائش ہی نہیں ہے)(صفحہ48-49)بریکٹ میں عبارت اللہ کی کتاب قرآن مجید پر احمد سعید کا بدترین جھوٹ ہے۔ جھوٹ نمبر 13(کتاب قرآن مقدس۔۔۔۔۔۔) : کون نہیں جانتا کہ قرآن مقدس میں لوط علیہ السلام والی قوم کی سی بدکاری کرنے والا کافر ہی ہوتا ہے اور لواطت کا کام سوائے کافر کے اورکوئی مومن نہیں کرتا۔ (صفحہ 52) نوٹ:احمد سعید ملتانی نے امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالہ سے سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ پر دبر زنی کا الزام تراشہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی عبارت صحیح بخاری میں موجود ہے۔