کتاب: قرآن مقدس اور حدیث مقدس - صفحہ 101
مصنف اپنی ناقص عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ناکام کوشش کررہا ہے اور حدیث کے ،معنوں میں صریحا تحریف کررہا ہے۔ عجبا لہ !اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہیں :( وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْداً )جس کا تمام مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (اللہ کافی ہے گواہی کے لئے )اب اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ باء بمعنی مع ہوگی لہٰذا صرف اللہ کی گواہی کافی نہیں بلکہ کسی اور کی گواہی بھی ساتھ ہوگی اس لئے کہ اللہ خود فرمارہاہے۔ تو کیا عرض کریں گے پس جو تاویل یہاں کریں حدیث کی بھی وہی تاویل ہوگی۔ (7)مصنف صفحہ 96پر (امام بخاری کی خیانت یا بھول چوک)کے عنوان کے تحت لکھتا ہے : اسی باب میں امام بخاری مسی ء الصلوۃ والی حدیث ذکر کرتے ہیں۔ ۔۔۔حالانکہ امام بخاری نے باب باندھا ہے امام ومأموم کا اور مسی ء الصلوۃ نہ امام ہے نہ مأ موم بلکہ منفرد ہے جواب :۔ یہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ متکلم اپنی منشاء کو بہتر جانتا ہے اور منفرد اس باب میں امام کے ضمن میں داخل ہے۔ اس لئے کہ دونوں کے احکامات تقریبا ًملتے جلتے ہیں۔ لہٰذا الگ سے ذکرکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (8) مصنف صفحہ 97پر لکھتا ہے : ثم اقرأ ماتیسر من القرآن سے مراد اگر بخاری صرف فاتحہ لیتے ہیں تو نری خیانت ہے۔ جواب :۔ نہ معلوم کہ ہم اسے مصنف کی بھول چوک کہیں یا خیانت ؟ اس لئے کہ امام بخاری رحمہ اللہ اسے مطلقاً قرأت کے لئے ہی ذکر کررہے ہیں لیکن مصنف نہ جانے کہاں سے یہ اخذ کررہا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ اس سے صرف فاتحہ مرادلے رہے ہیں۔ (9)مصنف صفحہ97پرلکھتا ہے : امام بخاری نے عطاء بن یسار سے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ اس نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ثابت سے سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے سورہ نجم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خود