کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 98
لوگ اس سے یہ دلیل کرتے ہیں (جس طرح چاہو) میں تو دبر بھی آ جاتی ہے،لہٰذا دبر کا استعمال بھی جائز ہے،لیکن یہ بالکل غلط ہے۔جب قرآن نے عورت کو کھیتی قرار دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف کھیتی کے استعمال کے لیے کہا جا رہا ہے کہ ’’اپنے کھیتوں میں جس طرح چاہو آئو‘‘ اور یہ کھیتی صرف فرج ہے نہ کہ دبر۔بہرحال یہ غیر فطری فعل ہے۔ایسے شخص کو جو اپنی عورت کی دبر استعمال کرتا ہے،ملعون قرار دیا گیا ہے۔[1] 23۔عورت کی عدّت اور حقوق: سورۃ البقرۃ (آیت:۲۲۸) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْٓئٍ وَ لَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ بُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا وَ لَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ} ’’اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رہیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو اُن کو جائز نہیں کہ اللہ نے جو کچھ اُن کے شکم میں پیدا کیا ہے،اُس کو چھپائیں اور اُن کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں اور عورتوں کا حق (مردوں ) پر ویسا ہی ہے،جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے،البتہ مردوں [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۱۶۲) مسند أحمد (۲/ ۴۷۹) صحیح الجامع (۵۸۸۹)