کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 92
چلو،وہ تو تمھارا صریح دشمن ہے۔‘‘ اہلِ ایمان کو کہا جا رہا ہے کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جائو اور اس طرح نہ کرو کہ جو باتیں تمھاری مصلحتوں اور خواہشا ت کے مطابق ہوں،ان پر تو عمل کرلو اور دوسرے حکموں کو نظر انداز کر دو،اسی طرح جو دین تم چھوڑ آئے ہو،اس کی باتیں اسلام میں شامل کرنے کی کوشش مت کرو،بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپنائو،اس سے دین میں بدعات کی بھی نفی کر دی گئی اور آج کل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی،جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لیے تیار نہیں،بلکہ دین کو عبادت،یعنی مساجد تک محدود کرنا اور سیا ست اور ایوانِ حکومت سے دیس نکالا دینا چاہتا ہے۔ اس طرح عوام کو بھی سمجھایا جا رہا ہے کہ جو رسم و رواج اور علاقائی ثقافت و روایات کو پسند کرتے ہیں اور انھیں چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے،جیسے مرگ اور شادی بیاہ کی مسرفانہ اور ہندوانہ رسوم اور دیگر رواج وغیرہ۔ یہاں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو،جو تمھیں مذکورہ خلافِ اسلام باتوں کے لیے حسین فلسفے تراش کر پیش کرتا،برائیوں پر خوش نما غلاف چڑھاتا اور بدعات کو بھی شریعت باور کراتا ہے،تاکہ اس کے دامِ ہم رنگِ زمین میں پھنسے رہو۔ 19۔کس پر خرچ کریں ؟ سورۃ البقرۃ (آیت:۲۱۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ} ’’(اے نبی!) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں ) کس طرح کا