کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 90
مذکورہ ترتیب کے مطابق عرفات جانا اور وہاں پر وقوف کرکے واپس آنا ضروری ہے،لیکن عرفات چونکہ حرم سے باہر ہے،اس لیے قریشِ مکہ عرفات تک نہیں جاتے تھے،بلکہ مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے،چنانچہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ جہاں سے سب لوگ لو ٹ کر آتے ہیں،وہیں سے تم لوٹ کر آئو،یعنی عرفات سے۔ 2۔ سورۃ البقرہ ہی میں آیت (۲۰۰ تا ۲۰۳) میں ارشادِ الٰہی ہے: {فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآئَ کُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ . وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ . اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ . وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ} ’’پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کر چکو تو (منیٰ میں ) اللہ تعالیٰ کو یاد کرو،جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے،بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (اللہ سے) التجا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں (جو دینا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر اور ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔بعض ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت عطا فرمانا اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔یہی لوگ ہیں جن کے لیے ان کے کاموں کا حصہ (نیک اجر تیار) ہے اور اللہ تعالیٰ جلد ہی حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے۔(قیامِ منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن ہیں ) اللہ کو یاد کرو،