کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 83
اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَآ اَذًی لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ} ’’جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں،پھر اُس کے بعد نہ اُس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں،اُن کا صلہ اُن کے رب کے پاس (تیار) ہے اور (قیامت کے روز) نہ اُن کو کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ 6۔سورۃ المنافقون کی آیت (۱۰) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلآَ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ} ’’اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے،اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کر لو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی؟ تاکہ میں خیرات کر لیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہو جاتا۔‘‘ یعنی مال اور اولاد کی محبت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کا ذریعہ بنتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں اور تنبیہ کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مال اور اولاد کی محبت میں پھنس کر اللہ سے غافل ہوجاؤ۔[1] 7۔سورۃ التغابن کی آیت (۱۶،۱۷) میں ارشادِ الٰہی ہے: {فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِکُمْ وَمَنْ یُّوقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ . اِنْ [1] تفسیر ابن کثیر (۵/ ۳۴۹)