کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 81
سال مسلمان تین دن کے لیے عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ آ سکیں گے۔یہ وہ مہینا تھا جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔جب دوسرے سال حسبِ معاہدہ اسی مہینے میں عمرہ کرنے کے لیے جانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔مطلب یہ ہے کہ اس دفعہ بھی اگر کفارِ مکہ اس مہینے کی حرمت پامال کرکے (گذشتہ سال کی طرح) تمھیں مکہ جانے سے روکیں توتم بھی اس کی حرمت کو نظر انداز کرکے ان سے بھرپور مقابلہ کرو۔حرمتوں کو ملحوظ رکھنے میں بدلہ ہے،یعنی وہ حرمت کا خیال رکھیں تو تم بھی رکھو،بصورت دیگر تم بھی حرمت کو نظر انداز کرکے کفار کو عبرت ناک سبق سکھائو۔[1] -16 انفاق فی سبیل اللہ کا حکم: 1۔سورۃ البقرۃ (آیت:۱۹۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ} ’’اور اللہ کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو،بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ ہلاکت میں ڈالنے سے بعض نے ترکِ انفاق،بعض نے ترکِ جہاد اور بعض نے گناہ پر گناہ کیے جانا مراد لیا ہے اور یہ ساری ہی صورتیں ہلاکت کی ہیں،جہاد چھوڑ دو گے یا جہاد میں اپنا مال صرف کرنے سے گریز کرو گے تو یقینا دشمن قوی ہوگا اور تم کمزور۔نتیجہ تباہی ہے۔ 2۔آگے آیت (۲۴۵) میں فرمانِ الٰہی ہے: {مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا [1] مختصر تفسیر ابن کثیر للرفاعي (۱/ ۱۵۲)