کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 79
کھول کر بیان فرماتا ہے،تاکہ وہ پرہیز گار بنیں۔‘‘ {یُطِیْقُوْنَہٗ}کا ترجمہ ’’یَتَجَشَّمُونَہٗ‘‘ (نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں ) کیا گیا ہے۔یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے،امام بخاری نے بھی اسے پسند کیا ہے۔یعنی جو شخص بڑھا پے یا بیماری کی وجہ سے جسے شفایابی کی امید نہ ہو،روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے،وہ ایک مسکین کو کھانا بطور فدیہ دے دے،لیکن زیادہ تر مفسرین نے اس کا ترجمہ ’’طاقت رکھتے ہیں ‘‘ کیا ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتداے اسلام میں روزے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے طاقت رکھنے والوں کو بھی رخصت دے دی گئی تھی کہ اگر وہ روزہ نہ رکھیں تو اس کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا دیا کریں۔لیکن بعد میں{فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ}کے ذریعے سے منسوخ کرکے ہر صاحبِ طاقت کے لیے روزہ فرض کر دیا گیا،تاہم زیادہ بوڑھے،دائمی مریض کے لیے اب بھی یہ حکم ہے کہ وہ فدیہ دے دیں۔دودھ پلانے والی عورتیں اگر مشقت محسوس کریں تو وہ مریض کے حکم میں ہوں گی،یعنی وہ روزہ نہ رکھیں،بعد میں روزے کی قضا دیں۔ ابتداے اسلام میں ایک حکم یہ تھا کہ روزہ افطار کرنے کے بعد عشا کی نماز یا سونے تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت تھی،سونے کے بعد ان میں سے کوئی کام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ظاہر بات ہے یہ پابندی سخت تھی اور اس پر عمل مشکل تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ دونوں پابندیاں اُٹھا لیں اور افطار سے لے کر صبح صادق تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت فرما دی۔ اعتکاف کی حالت میں بیوی سے مباشرت اور بوس و کنار کی اجازت نہیں ہے۔البتہ ملاقات اوربات چیت جائز ہے۔اعتکاف کے لیے مسجد ضروری ہے،چاہے مرد ہو چاہے عورت۔