کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 72
اس نے ان پر حرام کر دیں۔‘‘ 2۔آگے قریب ہی آیت (۱۷۲) میں فرمایا ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَ اشْکُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ} ’’ا ے اہلِ ایمان! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمھیں عطا فرمائی ہیں اُن کو کھاؤ اور اگر اللہ ہی کے بندے ہو تو اُس (کی نعمتوں ) کا شکر بھی ادا کرو۔‘‘ اس میں اہلِ ایمان کو ان تمام چیزوں کے کھانے کا حکم ہے جو اللہ نے حلال کی ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی تاکید ہے۔اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی حلال کردہ چیزیں ہی پاک ہیں،حرام کردہ اشیا پاک نہیں ہیں،چاہے وہ اپنے نفس کو کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگیں (جیسے اہل یورپ کو سور کا گوشت بڑا پسند ہے) دوسرا یہ کہ بتوں کے نام پر منسوب جانوروں اور اشیا کو مشرکین اپنے اوپر جو حرام کر لیتے تھے (جس کی تفصیل سورۃ الانعام میں بیان ہوئی ہے) مشرکین کا یہ عمل غلط ہے اور اس طرح ایک حلال چیز حرام نہیں ہوتی،تم ان کی طرح ان کو حرام مت کرو۔تیسرا یہ کہ اگر تم صرف ایک اللہ کے عبادت گزار ہو تو اداے شکر کا اہتمام کرو۔ یہی حکم رسولوں کو بھی ہوا ہے جیسا کہ سورۃ المومنون (آیت:۵۱) میں ہے۔ 3۔چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: {یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّی بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ}[المومنون:۵۱] ’’اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو،جو عمل تم کرتے ہو،میں ان سے واقف ہوں۔‘‘ {طَیِّبٰتِ}سے مراد پاکیزہ اور لذت بخش چیزیں ہیں۔بعض نے اس کا