کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 69
بے پروا اور سزاوارِ حمد (و ثنا) ہے۔‘‘ 5۔سورۃ الزمر (آیت:۷) میں فرمانِ الٰہی ہے: {اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ وَلاَ یَرْضٰی لِعِبَادِہٖ الْکُفْرَ وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ} ’’اگر ناشکری کرو گے تو اللہ تم سے بے پروا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرے گا اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہے،وہ تم کو بتائے گا وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے۔‘‘ 6۔سورۃ الاحقاف (آیت:۱۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًا حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْھًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْھًا وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰـثُوْنَ شَھْرًا حَتّٰی۔ٓ اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِٓیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ} ’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھااور تکلیف ہی سے جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھڑانا ڈھائی برس میں ہوتا ہے،یہاں