کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 66
بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں ہیں اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمھارے پاس دانش (اللہ کی وحی) آ چکی ہے،اُن کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے۔‘‘ 2۔تھوڑا آگے چل کر آیت (۱۴۹،۱۵۰) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ} ’’اور تم جہاں سے نکلو (نماز میں ) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لیا کرو،بلاشبہہ وہ تمھارے رب کی طرف سے حق ہے اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو،اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔اور تم جہاں سے نکلو مسجد محترم کی طرف منہ (کر کے نماز پڑھا) کرو اور مسلمانو! تم جہاں بھی ہوا کرو،اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تمھیں کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں،مگر اُن میں سے جو ظالم ہیں (وہ الزام دیں تو دیں )،سو اُن سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تمھیں اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو۔‘‘ قبلے کی طرف منہ پھیرنے کا حکم تین مرتبہ دوہرایا گیا،یا تو اس کی تاکید اور