کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 64
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان کا ہر چیز کے اللہ کی طرف سے ہونے کا اقرار کرنا،ثواب کا طلب کرنا اوراللہ تعالیٰ کے پاس مصیبتوں کے اجر کا ذخیرہ سمجھنا صبر ہے۔اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کام پر صبر کرو اور اسے بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سمجھو،اس سے نیکیوں کے کاموں پر بڑی مدد ملتی ہے۔[1] 5۔خوفِ روزِ قیامت۔۔۔نہ بدلہ نہ سفارش: سورۃ البقرۃ (آیت:۱۲۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْھَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ} ’’اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ اس سے کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے گی اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے گی۔‘‘ 6۔مقامِ ابراہیم کو مصلّٰی بنالو: سورۃ البقرہ (آیت:۱۲۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی وَ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اِبْرٰھٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰکِفِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِ} ’’اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو اور ابراہیم اور اسماعیل کو کہا کہ طواف کرنے [1] تفسیر ابن کثیر (۱/ ۱۰۶ )