کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 63
’’اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکات کا حکم کرتے تھے اور اپنے رب کے ہاں پسندیدہ (برگزیدہ) تھے۔‘‘[1] 4۔صبر کیا ہے ؟ سورۃ البقرۃ (آیت:۴۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ} ’’اور (رنج و تکلیف میں ) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بے شک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں ) جو عجز و انکساری کرنے والے ہیں۔‘‘ 5۔صبر اور نماز سے مدد لو: سورۃ البقرۃ (آیت:۱۵۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ} ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لیا کرو،بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ تم دنیا و آخرت کے کاموں پر نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کیا کرو،فرائض کو بجا لاؤ اور نماز کو ادا کرتے رہو،روزہ رکھنا بھی صبر کرنا ہے،اسی لیے رمضان کو صبر کا مہینا کہا گیا ہے۔صبر سے مراد گناہوں سے رُک جانا بھی ہے۔ [1] اس موضوع کی تفصیل کے لیے دیکھیں ہماری کتاب: ’’اذان و اقامت اور امامت و جماعت‘‘ (ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ )