کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 53
سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اُس سے بچا لیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے،تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرقہ بندی کی ممانعت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ متفق رہو اور اختلاف سے بچو۔ ’’حَبْلِ اللّٰہِ‘‘ سے مراد قرآنِ پاک ہے جو اس کی مضبوط رسّی ہے،یہ بہ ظاہر نور ہے۔یہ سراسر ہدایت دینے والا اور نفع بخش ہے،اس پر عمل کرنے والے کے لیے یہ بچاؤ ہے اور اس کی اطاعت کرنے والے کے لیے نجات ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ نبیِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین باتوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور تین باتوں سے وہ ناراض ہوتا ہے اور حکم دیتا ہے:1اُسی کی عبادت کرو،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔2اللہ تعالیٰ کی رسّی کو مضبوطی سے [متفق ہو کر] پکڑو۔3مسلمان بادشاہوں کی خیر خواہی کرو،جبکہ فضول گوئی،زیادتیِ سوال اور بربادیِ مال یہ تینوں چیزیں رب کی ناراضی کا سبب ہیں۔‘‘[1] مسند احمد میں مروی ہے کہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی وہاں تھے۔ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی۔وہ بیان فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ’’اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گرا دیا جائے تو دنیا والوں کی روزیاں بگڑ جائیں اور وہ کوئی چیز کھا پی نہ سکیں،پھر خیال کرو کہ ان دوزخیوں کا حال کیا ہوگا جن کا کھانا پینا ہی یہ زقوم ہوگا؟!‘‘[2] [1] تفسیر ابن کثیر (۱/ ۴۲) [2] مسند أحمد (۱/ ۳۰۰)