کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 481
-147 قول و فعل میں تضاد پیدا نہ کرو: سورۃ الصف (آیت:۲،۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لاَ تَفْعَلُوْنَ . کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لاَ تَفْعَلُوْنَ} ’’مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو،جو کیا نہیں کرتے؟ اللہ اس بات سے سخت بے زار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔‘‘ یہاں ندا اگرچہ عام ہے،لیکن اصل خطاب ان مومنوں سے ہے جو کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسند عمل ہیں،وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے چاہییں،تاکہ ان پر عمل کیا جا سکے،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر پوچھنے کی جراَت کوئی نہیں کر رہا تھا اور جب انھیں وہ عمل بتائے گئے تو وہ سست ہوگئے،اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔[1] -148 مال و اولاد کا فتنہ: 1۔ سورۃ المنافقون (آیت:۹) میں ارشادِ الٰہی ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ} ’’مومنو! تمھارا مال اور اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر غالب نہ آجائے،تاکہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام و فرا ئض سے غافل نہ ہو جائو۔ [1] سنن الترمذي،کتاب التفسیر (۳۳۰۹) مسند أحمد (۵/ ۴۵۲) اس سورۃ الصف بلکہ پورے پارہ (۲۸،۲۹ اور ۳۰) کا ترجمہ و تفسیر دستیاب ہے۔دیکھیں : حاشیہ متعلقہ سورۃ الحدید (ص: ۴۷۹) فقرہ نمبر (۱۴۴) کے تحت۔