کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 48
ایمان کیا چیز ہے؟ ایمان کا مطلب ہے دل سے کسی چیز کو اٹل حقیقت مان لینا،جبکہ اس میں کسی قسم کا شک و تردّد نہ ہو اور اُسے تسلیم نہ کرنے سے کفر لازم آتا ہے۔ ایمان کی تشریح علما نے یوں کی ہے: 1۔ زبان سے اقرار۔ 2۔ دل سے تصدیق۔ 3۔ اعضا سے عمل۔ قرآنِ مجید میں اکثر مقامات پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے اعمالِ صالحہ کی ترغیب دلائی ہے [اس کا مطالعہ ان شاء اللہ آپ آیندہ صفحات میں کریں گے] چنانچہ ہمیں چاہیے کہ اپنا ایمان مضبوط کر کے اعمالِ صالحہ سے توشۂ آخرت تیار کریں۔ سابقہ آیت میں ایمان والوں کو حکم ہو رہا ہے کہ پورے کے پورے ایمان میں داخل ہوجائیں،تمام احکام کو مکمل شریعت کو اور ایمان کی تمام جُزئیات کو مان لیں۔یہ خیال نہ ہو کہ اس میں تحصیل نہیں بلکہ تکمیلِ کامل ہے۔ایمان لائے ہو تو اس پر قائم رہو،اللہ تعالیٰ کو ماننا ہے تو جیسے اور جس طرح وہ منوائے مانتے چلے جاؤ۔یہی مطلب ہر مسلمان کی اس دعا کا ہے کہ ہمیں راہ مستقیم [صراط مستقیم] کی ہدایت کر،یعنی ہمیں ہدایت پر ثابت رکھ،اس میں ہمیں مضبوط رکھ،استقامت نصیب فرما اور دن بدن بڑھاتا رہ۔اسی طرح یہاں بھی مومن کو اللہ نے اپنی ذات پر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا فرمایا ہے۔ایک اور آیت میں ایمان داروں سے خطاب کر کے فرمایا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تمام کتابوں پر ایمان لاؤ۔[1] [1] تفسیر ابن کثیر (۱/ ۶۳۵)