کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 479
بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو شخص روگردانی کرے تو اللہ بھی بے پروا (اور) سزاوارِ حمد (و ثنا) ہے۔‘‘ یہاں جس حزن اور فرح سے روکا گیا ہے،وہ غم اور خوشی ہے،جو انسان کو شرعی احکام و حدود سے تجاوز اور ناجائز کاموں تک پہنچا دیتی ہے،ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا،یہ ایک فطری عمل ہے،لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے،جزع فزع کرنے سے اس میں تبدیلی نہیں آسکتی اور راحت پر اِتراتا نہیں ہے،بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ یہ صرف اس کی اپنی سعی کا نتیجہ نہیں ہے،بلکہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کا احسان ہے۔[1] -145گناہ و زیادتی اور نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کرو: پاره28{قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ}سورۃ المجادلہ (آیت:۹،۱۰) میں فرمایا: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلاَ تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ . اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیْسَ بِضَآرِّھِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ} ’’مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا،بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور اللہ سے جس کے سامنے جمع کیے جاؤ گے ڈرتے رہنا۔(کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لیے (کی جاتی ہیں ) کہ مومن [1] پوری سورۃ الحدید کے ترجمہ اور تفسیر پر مشتمل ہماری ویڈیو سی ڈیز دستیاب ہیں اور یہ مکمل سورت ہماری ویب سائیٹ پر بھی برائے فری ڈاؤن لوڈ موجود ہے: www.mohammedmunirqamar.com