کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 475
(( اَلْکِبَرْ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ )) [1] ایک دوسرے پر طعنہ زنی مت کرو،مثلاً تو فلاں کا بیٹا ہے،تیری ماں ایسی ویسی ہے تو فلاں خاندان کا ہے نا وغیرہ۔اپنے طور پر استہزا اور تحقیر کے لیے لوگوں کے ایسے نام رکھ لینا جو انھیں ناپسند ہوں یا اچھے بھلے ناموں کو بگاڑ کر بولنا،یہ تنابز بالالقاب ہے،جس کی یہاں ممانعت کی گئی ہے۔ -140 بدظنی،تجسّس اور غیبت سے اجتناب کرو: سورۃ الحجرات (آیت:۱۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلاَ تَجَسَّسُوْا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ} ’’اے اہلِ ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے،اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ کا ڈر رکھو،بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کا معنیٰ ہے اہلِ خیر و اہلِ اصلاح و تقویٰ کے بارے میں ایسے گمان رکھنا جو بے اصل ہوں اور تہمت و افترا کے ضمن میں آتے ہوں،اسی لیے اس کا ترجمہ بدگمانی کیا جاتا ہے اور حدیث میں اس کو ’’أَکْذَبُ الْحَدِیث‘‘ (سب سے بڑا جھوٹ) کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔[2] [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۹۱) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۰۹۰) [2] صحیح البخاي،کتاب الأدب (۶۰۶۶) صحیح مسلم (۲۸/ ۲۵۶۳)