کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 473
قرآن و حدیث میں غور و فکر کے بغیر نہ دیا جائے۔مومن کی شان تو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا ہے نہ کہ ان کے مقابلے میں اپنی بات پر یا کسی امام کی رائے پر اڑے رہنا۔[1] -138 اپنی آواز نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو: سورۃ الحجرات (آیت:۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَ تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ} ’’اے اہلِ ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمھارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس ادب و تعظیم اور احترام و تکریم کا بیان ہے جو ہر مسلمان سے مطلوب ہے: پہلا ادب:یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جب تم آپس میں گفتگو کرو تو تمھاری آواز نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ ہو۔ دوسرا ادب:جب خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کرو تو نہایت وقار اور سکون سے کرو،اس طرح اونچی اونچی آواز سے نہ کرو،جس طرح تم آپس میں بے تکلفی سے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ یا محمد،یا احمد نہ کہو،بلکہ ادب سے [1] تفسیر أحسن البیان (ص: ۱۱۸۵)