کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 471
-134 ذکرِ الٰہی سے اعراض نہ کرو: سورۃ الزخرف (آیت:۳۶) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَھُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ} ’’اور جو کوئی اللہ کی یاد سے آنکھیں بند کر لے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تووہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔‘‘ -135 اپنے اعمال برباد مت کر: پارہ26{حٰـمٓ}سورت محمد (آیت:۳۳) میں فرمایا: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلاَ تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ} ’’مومنو! اللہ کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرماں برداری کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ ہونے دو۔‘‘ منافقین اور مرتدین کی طرح ارتداد و نفاق اختیار کر کے اپنے عملوں کو برباد مت کرو،یہ گویا اسلام پر استقامت کا حکم ہے۔بعض نے کبائر و فواحش کے ارتکاب کو بھی حبطِ اعمال کا باعث جانا ہے،اسی لیے مومنین کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ بڑے گناہ اور فواحش سے بچتے ہیں۔[سورۃ النجم:۳۲] اس اعتبار سے کبائر و فواحش سے بچنے کی اس میں تاکید ہے۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عمل خواہ کتنا ہی بہتر کیوں نہ معلوم ہوتا ہو،اگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے دائرے سے باہر ہے تو رائیگاں اور برباد ہے۔[1] [1] تفسیر أحسن البیان (ص: ۱۱۷۲)