کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 453
عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ وَلاَ یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} ’’اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرایش (زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں،مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا،نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں سے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض کہ ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگھار کے مقامات) ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں کہ (جھنکار کی آواز کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہو جائے اور مومنو! سب اللہ کے آگے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ زینت سے مراد وہ لباس اور زیور ہے جو عورتیں اپنے حسن و جمال میں مزید نکھار پیدا کرنے کے لیے پہنتی ہیں،جس کی تاکید انھیں اپنے خاوندوں کے لیے کی گئی ہے۔جب لباس اور زیور کا اظہار غیر مردوں کے سامنے عورت کے لیے ممنوع ہے تو جسم کو عریاں اور نمایاں کرنے کی اجازت اسلام میں کب ہوسکتی ہے؟ یہ تو بہ طریقِ اولیٰ حرام اور ممنوع ہوگا۔ ’’جو کھلا رہتا ہے۔‘‘ سے مراد وہ زینت اور جسم کا حصہ ہے،جس کا چھپانا اور پردہ کرنا ممکن نہ ہو،جیسے کسی کو کوئی چیز پکڑاتے یا اس سے لیتے ہوئے ہتھیلیوں کا یا