کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 450
-109 اصحابِ استطاعت خرچ نہ کرنے کی قسم نہ کھائیں: سورۃ النور (آیت:۲۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلاَ یَاْتَلِ اُوْلُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُوْلِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلاَ تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ’’اور جو لوگ تم میں صاحبِ فضل (اور صاحبِ) وسعت ہیں،وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتے داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے،ان کو چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں،کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ،جو واقعۂ افک میں ملوث ہوگئے تھے،فقراے مہاجرین میں سے تھے اور رشتے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد تھے،اسی لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے کفیل اور معاش کے ذمے دار تھے،جب یہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف مہم میں شریک ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سخت صدمہ پہنچا،جو ایک فطری عمل تھا،چنانچہ نزولِ براء ت کے بعدغصے میں انھوں نے قسم کھا لی کہ وہ آیندہ مسطح رضی اللہ عنہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یہ قسم اگرچہ انسانی فطرت کے مطابق ہی تھی،تاہم مقامِ صدیقیت اس سے بلند تر کردار کا متقاضی تھا۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں آئی اور یہ آیت نازل فرمائی،جس میں بڑے پیار سے ان کے اس عاجلانہ بشری اقدام پر انھیں متنبہ فرمایا کہ تم سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری غلطیاں معاف فرماتا رہے تو پھر تم بھی دوسروں کے ساتھ اسی طرح معافی اور درگزر کا معاملہ کیوں نہیں