کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 448
سزا مقرر نہ کی جائے،ان بدکار عورتوں کو گھروں میں بند رکھو،پھر جب سورۃ النور کی یہ آیت نازل ہوئی تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا،اس کے مطابق بدکار مرد اور عورت کی مستقل سزا مقرر کر دی گئی ہے،وہ تم مجھ سے سیکھ لو،کنوارے مرد اور عورت کے لیے سو سو کوڑے اور شادی شدہ مرد اور عورت کو سو سو کوڑے اور سنگ ساری کے ذریعے سے مار دینا۔[1] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ زانیوں کے لیے کوڑوں کی سزا ختم کرکے صرف رجم (سنگساری) برقرار رکھی۔ -107 زانی و مشرک مرد و زن کے ساتھ مومن نکاح نہ کرے: سورۃ النور (آیت:۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلزَّانِیْ لاَ یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُھَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ} ’’بدکار مرد بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔‘‘ اس کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے: 1۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ غالب احوال کے اعتبار سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ عام طور پر بدکار قسم کے لوگ نکاح کے لیے اپنے ہی جیسے لوگوں کی طرف رجوع کرتے ہیں،چنانچہ زانیوں کی اکثریت زانیوں کے ساتھ ہی نکاح کرنا پسند کرتی ہے۔مقصود اس سے اہلِ ایمان کو متنبہ کرنا ہے کہ جس طرح زنا ایک نہایت قبیح اور بڑا گناہ ہے،اسی طرح زناکاروں کے ساتھ شادی بیاہ کے [1] صحیح مسلم،کتاب الحدود،باب حد الزنیٰ (۱۲/ ۱۶۹۰) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۴۱۵) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۴۳۴) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۵۵۰)