کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 445
ذکر کرنا چاہیے۔ -105 آرایشِ دنیا پر نگاہ نہ کریں: 1۔ سورت طٰہٰ (آیت:۱۳۱) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَھْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی} ’’اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرایش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے،تاکہ ان کی آزمایش کریں،ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمھارے رب کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘ یہاں آرایشِ دنیا کے ذریعے آزمایش کا ذکر آیا ہے،ایسا ہی مضمون سورت آل عمران (آیت:۱۹۶،۱۹۷) سورت ابراہیم (آیت:۳) سورۃ الحجر (آیت:۸۸) سورۃ النحل (آیت:۱۰۶،۱۰۷) سورۃ الکہف (آیت:۷) اور سورۃ النازعات (آیت:۳۷ تا ۳۹) میں بھی بیان ہوا ہے۔ 2۔ سورت آل عمران (آیت:۱۹۶،۱۹۷) میں ارشادِ الٰہی ہے: {لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ . مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ثُمَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمِھَادُ} ’’(اے پیغمبر!) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمھیں دھوکا نہ دے۔(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں ) تو اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بُری جگہ ہے۔‘‘ 3۔ سورت ابراہیم (آیت:۳) میں ارشادِ الٰہی ہے: {اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ