کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 441
کے نام پر اورخواتین اپنے ’’حسن‘‘ کو برقرار رکھنے کے لیے اس جرم کا عام ارتکاب کر رہی ہیں۔اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ۔[1] -98 زنا کے قریب بھی نہ جاؤ: سورت بنی اسرائیل (آیت:۳۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّ سَآئَ سَبِیْلًا} ’’اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بے حیائی اور بری راہ ہے۔‘‘ زنا کی ممانعت کا موضوع سورۃ الفرقان (آیت:۶۸) میں بھی آیا ہے،چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: {وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا} ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہیں پکارتے اور جن جاندار کا مار ڈالنا اللہ نے حرام کیا ہے،اُس کو قتل نہیں کرتے،مگر جائز طریق پر (حکمِ شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا۔‘‘ اسلام میں زنا بہت بڑا جرم ہے،اتنا بڑا کہ کوئی شادی شدہ مرد یا عورت اس کا ارتکاب کرے تو اسے اسلامی معاشرے میں زندہ رہنے کا ہی حق نہیں ہے۔اسی لیے یہاں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ،یعنی اس کے اسباب سے بھی بچ کر رہو۔مثلاً غیر محرم عورت کو دیکھنا،اسی طرح عورتوں کا بے پردہ بن سنور کر اور محرم کے بغیر گھر سے نکلنا وغیرہ۔ان تمام امور سے اجتناب ضروری ہے۔ -99 جس چیز کا علم نہ ہو،اس کے پیچھے مت پڑو: [1] نیز دیکھیں : نمبر (۶۳)