کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 436
’’اور اپنی قسموں کو آپس میں دغابازی کا بہانہ نہ بناؤ کہ ( تم لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا،تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے اور بڑا سخت عذاب ملے۔‘‘ مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھاری اس اخلاقی پستی سے کسی کے قدم ڈگمگا جائیں اور کافر تمھارا یہ رویہ دیکھ کر قبولِ اسلام سے رک جائیں اور یوں تم لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے مجرم اور سزا کے مستحق بن جائو۔بعض مفسرین نے قسموں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت مراد لی ہے۔یعنی نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت توڑ کر پھر مرتد ہو جانا۔تمھارے ارادوں کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اسلام قبول کرنے سے رک جائیں گے اور یوں تم دگنے عذاب کے مستحق قرار پاؤگے۔[1] -89 اللہ کے عہد کو نہ بیچ ڈالو: سورۃ النحل (آیت:۹۵) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} ’’اور اللہ سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو (کیونکہ ایفاے عہد کا) جو (صلہ) اللہ کے ہاں مقرر ہے،وہ اگر سمجھو تو تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ اور ’’تھوڑی سی قیمت‘‘ کی تفصیل کے لیے صفحہ نمبر (۳۳۷) ملاحظہ کریں۔ -90 اپنی زبان سے حلال و حرام نہ کرو: سورۃ النحل (آیت:۱۱۶) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [1] مختصر فتح القدیر للشوکاني (ص: ۸۴۸)