کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 43
امر بالمعروف و نہی عن المنکر ایک شرعی فریضہ یہ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ اچھے کاموں کا پرچار کرنا اور بُرے کاموں سے روکنا فرضِ کفایہ ہے،بالخصوص ان لوگوں پر جو امر اور نہی کی طاقت رکھتے ہوں۔حقیقتاً ایمان باللہ کے بعد دینی ذمے داریوں میں سے یہ ایک بہت ہی بڑی ذمے داری بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنی کتابِ عزیز میں ایمان کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔[1] چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ}[آل عمران:۱۱۰] ’’)مومنو!) جتنی امتیں (قومیں ) لوگوں میں پیدا ہوئیں،تم اُن سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور بُرے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ فرضیت کے دلائل: اس کی فرضیت کی بنیاد درج ذیل نقلی اور عقلی دلائل ہیں: 1۔سورت آل عمران (آیت:۱۰۴) میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: {وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ [1] منھاج المسلم لأبي بکر جابر الجزائري (ص: ۱۱۷)