کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 429
{وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ} ’’اور ( اے قوم! ) ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔‘‘ انبیا علیہم السلام کی دعوت دو اہم بنیادوں پر مشتمل ہوتی ہے:حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنا۔اس آیت میں حقوق العباد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ لوگوں کو انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپ تول دیں اور لوگوں کو چیزیں کم دینے سے منع کیا جارہا ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بھی ایک بڑا جرم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت ’’سورۃ المطفّفین‘‘ میں اس جرم کی شناعت و قباحت اور اس کی اخروی سزا بیان فرمائی ہے۔ 2۔ چنانچہ مذکورہ بالا سورت کی پہلی چھے آیات میں فرمایا ہے: {وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ . الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ . وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْ وَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ . اَلاَ یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ . لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ . یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} ’’ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے۔جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا کریں۔اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم دیں۔کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے؟ (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں۔جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔‘‘ لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اسی طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا،بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے،جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ایک حدیث میں ہے: