کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 422
عبداللہ بن ابو امیہ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب سے فرمایا: ’’اے چچا جان! آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجیے،میں اسی ایک جملہ کی آڑ لے کر اللہ کے پاس آپ کی بخشش کے لیے حجت پیش کروں گا۔‘‘ تو ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا:اے ابو طالب! کیا تم ملتِ عبدالمطلب سے روگردانی کروگے؟ تو ابو طالب نے کہا:میں واقعی ملتِ عبد المطلب پر جان دوں گا۔نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں اس وقت تک آپ کی مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا،جب تک اللہ مجھے روک نہ دے۔‘‘ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔[1] -75 احسان فراموشی نہ کریں: پارہ11{یَعْتَذِرُوْنَ}سورت یونس (آیت:۱۲) میں فرمایا: {وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ۔م اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} ’’اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہرحال میں ) ہمیں پکارتا ہے،پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دُور کر دیتے ہیں تو (بے لحاظ ہو جاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے،گویا کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا،اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو اُن کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔‘‘ -76 بے عقلوں سے نہ ہوجاؤ: سورت یونس (آیت:۸۹) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [1] صحیح البخاري،کتاب التفسیر،سورۃ التوبۃ (۱۳۶۰) تفسیر ابن کثیر (۲/ ۳۹۸)