کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 408
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ بیان فرمایا ہے،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی حلال چیز کو حرام کر لینا،یہ قسم کھانے کے مرتبے میں ہے،جو تکفیر (کفارہ ادا کرنے) کا متقاضی ہے۔لیکن یہ استدلال احادیثِ صحیحہ کی موجودگی میں محل نظر ہے۔فَالصَّحِیْحُ مَا قَالَہُ الشَّّوْکَانِيُّ۔لیکن صحیح تر قول امام شوکانی والا ہی ہے۔ 2۔ سورۃ التحریم (آیت:۱) میں فرمایا ہے: {یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ’’اے پیغمبر! جو چیز اللہ نے تمھارے لیے جائز کی ہے،تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو؟ (کیا اس سے) اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو اپنے لیے حرام کر لیا تھا،وہ کیا تھی،جس پر اللہ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا؟ اس سلسلے میں ایک تو وہ مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما کے پاس کچھ دیر ٹھہرتے اور وہاں شہد پیتے،حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں نے وہاں معمول سے زیادہ دیر تک آپ کو ٹھہرنے سے روکنے کے لیے یہ سکیم تیار کی کہ ان میں سے جس کے پاس بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ ان سے کہے کہ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر (ایک قسم کا پھول جس میں گوشت مچھلی کی سی بو ہوتی ہے) کی بو آ رہی ہے۔چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں نے تو زینب رضی اللہ عنہما کے گھر صرف شہد پیا ہے،اب میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ نہیں پیوں گا،لیکن یہ بات تم کسی کو مت بتلانا۔[1] [1] صحیح البخاري،کتاب التفسیر (۴۹۱۲)