کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 393
تمھیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے۔‘‘ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک وہ گناہ ہیں،جن پر حد مقرر ہے۔بعض کے نزدیک وہ گناہ جس پر قرآن میں یا حدیث میں سخت وعید یا لعنت آئی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ہر وہ کام جس سے اللہ نے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ تحریم کے روکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بات بھی کسی گناہ میں پائی جائے تو وہ کبیرہ ہے۔یہاں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو مسلمان کبیرہ گناہوں مثلاً شرک،والدین کی نافرمانی اور جھوٹ وغیرہ سے اجتناب کرے گا تو ہم اس کے صغیرہ گناہ معاف کر دیں گے۔[1] -46 بے جا تمنّا نہ کرو: سورۃ النساء (آیت:۳۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَ لِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا} ’’اور جس چیز میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اُس کی ہوس مت کرو۔مردوں کو اُن کاموں کا ثواب ہے جو اُنھوں نے کیے اور عورتوں کو اُن کاموں کا ثواب ہے جو اُنھوں نے کیے اور اللہ سے اُس کا فضل (و کرم) مانگتے رہو،کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ اس کے سبب و شانِ نزول میں بتلایا گیا ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے عرض کی:مرد جہاد میں حصہ لیتے ہیں اور شہادت پاتے ہیں۔ہم عورتیں ان فضیلت والے کاموں سے محروم ہیں۔ہماری میراث بھی مردوں سے نصف ہے،اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جو [1] تفصیل کے لیے دیکھیں : تفسیر ابن کثیر (۱/ ۵۳۱)