کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 389
کر لونڈیوں کے طور پر) تمھارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) اللہ نے تمھیں لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں۔اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے اُن سے نکاح کر لو،بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو،نہ کہ شہوت رانی۔تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو،اُن کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کر دو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے کچھ (مہر میں کمی بیشی) کر لو تو تم پر کچھ گناہ نہیں،بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔‘‘ جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے،ان کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ان میں سات محرماتِ نسب اور سات رضاعی اور چار سسرالی بھی ہیں۔ان کے علاوہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے۔سات نسبی محرمات میں مائیں،بیٹیاں،بہنیں،پھوپھیاں،خالائیں،بھتیجیاں اور بھانجیاں ہیں۔سات رضاعی محرمات میں رضاعی مائیں،رضاعی بیٹیاں،رضاعی بہنیں،رضاعی پھوپھیاں،رضاعی خالائیں،رضاعی بھتیجیاں اور رضاعی بھانجیاں ہیں اور سسرالی محرمات میں ساس،مدخولہ بیوی کے پہلے خاوند کی لڑکیاں،بہو اور دو سگی بہنوں کا اکٹھاکرنا۔اس کے علاوہ باپ کی منکوحہ (جس کا ذکر گذشتہ آیت:۲۲ میں ہے) اور حدیث کے مطابق بیوی جب تک عقد نکاح میں ہے،اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ اور اس کی بھتیجی اور اس کی بھانجی سے بھی نکاح حرام ہے۔ محارمِ نسبی کی تفصیل: ’’اُمَّھَات‘‘ (مائیں ) میں مائوں کی مائیں (نانیاں ) ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں،پردادیاں اور اس کے آگے تک) شامل ہیں۔ ’’بَنَات‘‘ (بیٹیاں ) میں پوتیاں،نواسیاں اور پوتیوں،نواسیوں کی بیٹیاں