کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 387
مجبور ہوکر حق مہر جو خاوند نے اسے دیا ہوتا،از خود واپس کرکے اس سے خلاصی پانے کو ترجیح دیتی،اسلام نے اس حرکت کو بھی ظلم قرار دیا۔ کھلی برائی سے مراد بدکاری یا بدزبانی اور نافرمانی ہے،ان دونوں صورتوں میں اجازت دی گئی ہے کہ خاوند اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیارکرے کہ وہ اس کا دیا ہوا حق مہر واپس کرکے خلع کرانے پر مجبور ہو جائے،جیسا کہ خلع کی صورت میں حق مہر واپس لینے کا حق دیا گیا ہے۔(ملاحظہ ہو:سورۃ البقرہ،آیت:۲۲۹) -42 باپ کی بیویوں سے نکاح نہ کرو: سورۃ النساء (آیت:۲۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّ مَقْتًاوَ سَآئَ سَبِیْلًا} ’’اور جن عورتوں سے تمھارے باپ نے نکاح کیا ہو،اُن سے نکاح مت کرنا،مگر (جاہلیت میں ) جو ہو چکا (سو ہو چکا) یہ نہایت بے حیائی اور (اللہ کی) ناخوشی کی بات تھی اور بہت بُرا دستور تھا۔‘‘ زمانۂ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں ) سے نکاح کر لیتے تھے،یہاں اس سے روکا جا رہا ہے کہ یہ بہت بے حیائی کا کام ہے۔اس آیت کا عموم ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے،جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا،لیکن دخول سے قبل ہی طلاق دے دی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ بات مروی ہے اور علما اسی کے قائل ہیں۔[1] -43 محارمِ نسبی: سورۃ النساء (آیت:۲۳،۲۴) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [1] تفسیر طبري بحوالہ أحسن البیان (ص: ۱۸۰)