کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 386
کوئی چیز چھپی نہیں۔اسی لیے حدیث میں آتا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ یہ بہت ذمے داری کا کام ہے۔[1] -41 عورتوں کے جبراً وارث نہ بنو: سورۃ النساء (آیت:۱۹) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآئَ کَرْھًا وَ لَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ} ’’مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے اُن کو دیا ہے،اُس میں سے کچھ لے لو،انھیں (گھروں میں ) مت روک رکھنا۔ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا نامناسب نہیں )۔‘‘ اسلام سے قبل عورت پر ایک ظلم یہ بھی ہوتا تھا کہ شوہر کے مر جانے کے بعد اس کے گھر کے لوگ اس کے مال کی طرح اس کی عورت کے بھی زبردستی وار ث بن بیٹھتے تھے اور خود اپنی مرضی سے،اس کی رضا مندی کے بغیر اس سے نکاح کر لیتے یا اپنے بھائی بھتیجے سے اس کا نکا ح کر دیتے،حتیٰ کہ سوتیلا بیٹا تک بھی مرنے والے باپ کی عورت سے نکاح کر لیتا۔اگر چاہتے تو کسی اور جگہ نکاح نہ کرنے دیتے تھے اور وہ ساری عمر یونہی رہنے پر مجبور ہوتی،اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع فرمایا۔ ایک ظلم یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر وہ خاوند کو پسند نہ ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق نہ دیتا،بلکہ اسے خوب تنگ کرتا،وہ [1] صحیح مسلم،کتاب الأمارۃ (۱۷/ ۱۸۲۶)