کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 380
اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَاکَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ} ’’اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور اللہ کی اُس مہربانی کو یاد کرو،جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اُس نے تمھارے دلوں میں اُلفت ڈال دی اور تم اُس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اُس سے بچا لیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘ 2۔ آگے آیت (۱۰۵) میں ارشادِ الٰہی ہے: {وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ} ’’اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہوگئے اور واضح احکام کے آجانے کے بعد ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے،یہ وہ لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دن) بڑا عذاب ہوگا۔‘‘ -36 کسی محرومی یا مصیبت پر غمگین نہ ہونا: سورت آل عمران (آیت:۱۵۳) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاَثَابَکُمْ غَمًّام بِغَمٍّ لِّکَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا مَآ اَصَابَکُمْ} ’’اللہ نے تم کو غم پر غم پہنچایا،تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے جاتی رہی یا