کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 371
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ} ’’حالانکہ تجارت کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔تو جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہو چکا وہ اُس کا اور (قیامت میں ) اُس کا معاملہ اللہ کے سپرد۔اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے۔اللہ سود کو نابود (بے برکت) کرتا اور خیرات (کی برکت)کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے گناہ گار کو دوست نہیں رکھتاہے۔جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکات دیتے رہے،اُن کو اُن کے کاموں کا صلہ اللہ کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) اُن کو کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ 2۔ سورۃ البقرۃ (آیت:۲۷۸،۲۷۹) میں ارشادِ الٰہی ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ . فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ} ’’مومنو! اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سُود باقی رہ گیا ہے،اُس کو چھوڑ دو،اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہو جاؤ (اور تم) اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کے لیے (تیار ہوجاؤ) اور اگر توبہ کر لو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے،جس میں نہ دوسروں کا نقصان ہو اور نہ تمھارا نقصان۔‘‘