کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 367
ہے،جس سے مقصود اس سے روکنا ہے،اس لیے نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مذاق سے بھی اگر کوئی مذکورہ کام کرے گا تو وہ حقیقت ہی سمجھا جائے گا اور مذاق کی طلاق یا نکاح یا آزادی نافذ ہو جائے گی۔[1] -30 عضل (نکاح سے روکنے) کی ممانعت: سورۃ البقرۃ (آیت:۲۳۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَ اَطْھَرُ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} ’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور اُن کی عدت پوری ہو جائے تو اُن کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہو جائیں،نکاح کرنے سے مت روکو۔اس (حکم) سے اُس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور روزِ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔یہ تمھارے لیے نہایت خوب اور پاکیزگی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس میں مطلقہ عورت کی بابت ایک حکم دیا جا رہا ہے کہ عدت گزرنے کے بعد (پہلی یا دوسری طلاق کے بعد) اگر سابقہ خاوند بیوی باہمی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو ان کو مت روکو۔نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ایسا [1] تفسیر ابن کثیر (۱/ ۲۴۴) سنن أبي داود،رقم الحدیث (۲۱۹۴) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۱۸۴) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (۲۰۳۹)