کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 363
کہتے ہیں،جس کا حکم حیض سے مختلف ہے۔حیض کے ایام میں عورت کو نماز معاف ہے اور روزے رکھنے ممنوع ہیں،تاہم روزوں کی قضا بعد میں ضروری ہے،لیکن نماز کی نہیں۔مردوں کے لیے صرف ہم بستری سے منع کیا ہے،البتہ بوس و کنار جائز ہے،اسی طرح عورت ان دنوں میں کھانا پکانا اور دیگر کام کر سکتی ہے۔ جس طریق یعنی شرم گاہ سے اجازت ہے صرف اُسی سے جماع کرو،کیوں کہ حالتِ حیض میں بھی اسی سے روکا گیا تھا اور اب پاک ہونے کے بعد جو اجازت دی جا رہی ہے تو اس کا مطلب صرف فرج (شرم گاہ) کی اجازت ہے،نہ کہ کسی اور حصے کی۔اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت کی دبر کا استعمال حرام ہے،جیسا کہ احادیث میں اس کی مزید وضاحت و صراحت کر دی گئی ہے۔ -25 ممنوع قسمیں اور انھیں توڑنے کا کفارہ: سورۃ البقرۃ (آیت:۲۲۴) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} ’’اور اللہ (کے نام) کو اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اُس کی) قسمیں کھا کھا کر بھلائی کرنے اور پرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔‘‘ غصے میں اس طرح کی قسم مت کھائو کہ فلاں کے ساتھ نیکی نہیں کروں گا،فلاں سے نہیں بولوں گا،فلاں فلاں کے درمیان صلح نہیں کرائوں گا۔اس طرح کی قسموں کے لیے حدیث میں کہا گیا ہے کہ اگر قسم کھا لو تو انھیں توڑ دو اور قسم کا کفارہ ادا کرو۔ قسم کا کفارہ سورۃ المائدہ (آیت:۸۹) میں آیا ہے۔ارشادِ الٰہی ہے: