کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 361
شراب اور جوے کے مزید نقصانات بیان کرکے سوال کیا گیا ہے کہ اب بھی باز آجائو گے یا نہیں ؟ جس سے مقصود اہلِ ایمان کی آزمایش ہے،چنانچہ جو اہلِ ایمان تھے،وہ تو منشاے الٰہی سمجھ گئے اور اس کی قطعی حرمت کے قائل ہو گئے اور کہا:اِنْتَہَیْنَا رَبَّنَا! اے رب! ہم باز آگئے۔[1] لیکن آج کل کے بعض ’’دانشور‘‘کہتے ہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام کہاں قرار دیا ہے؟ ع بریں عقل و دانش بباید گریست -23 مشرک سے نکاح نہ کرو: سورۃ البقرۃ (آیت:۲۲۱) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْکُمْ وَ لَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَکُمْ اُولٰٓئِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَ اللّٰہُ یَدْعُوْٓا اِلَی الْجَنَّۃِ وَ الْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ} ’’اور (مومنو!) مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں (اُن سے) نکاح نہ کرنا،کیوں کہ مشرک عورت خواہ تمھیں کیسی ہی بھلی لگے،اُس سے مومن لونڈی بہتر ہے اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں،مومن عورتوں کو اُن کی زوجیت میں نہ دینا کیوں کہ مشرک (مرد) خواہ وہ تمھیں کیسا ہی بھلا لگے (اُس سے) مومن غلام بہتر ہے یہ (مشرک،لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ [1] مسند أحمد (۲؍ ۳۵۱)