کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 357
-18 ممنوعاتِ حج: سورۃ البقرۃ (آیت:۱۹۷) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ} ’’حج (کے دنوں ) میں عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی بُرا کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے۔‘‘ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے: ’’جس نے حج کیا اور شہوانی باتوں اور فسق و فجور سے بچا،وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے،جیسے اس دن پاک تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔‘‘[1] -19 کفرانِ نعمت کی سزا اور تقوے کی جزا: سورۃ البقرہ (آیت:۲۱۱،۲۱۲) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ کَمْ اٰتَیْنٰھُمْ مِّنْ اٰیَۃٍم بَیِّنَۃٍ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَتْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ . زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ اللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ} ’’(اے نبی!) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے اُن کو کتنی کھلی نشانیاں دیں اور جو شخص اللہ کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوش نما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں،لیکن جو [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۱۸۲۰) صحیح مسلم (۵/ ۹/ ۱۱۹)