کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 354
میں ان کے لیے ہر چیز کا مردوں سے الگ انتظام کرنا ضروری ہے،تاکہ مردوں سے کسی طرح کا میل جول نہ ہو۔جب تک مسجد میں معقول،محفوظ اور مردوں سے بالکل الگ انتظام نہ ہو،عورتوں کو مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔یہ ایک نفلی عبادت ہے،جب تک پوری طرح تحفظ نہ ہو،اس نفلی عبادت سے گریز بہتر ہے۔فقہ کا اصول ہے: ’’مصالح کے حصول کے مقابلے میں مفاسد سے بچاؤ زیادہ ضروری ہے۔‘‘ -14 کسی کا مال ناحق نہ کھاؤ: 1۔ سورۃ البقرۃ (آیت:۱۸۸) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْن} ’’اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اُس کو (رشوتاً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ،تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو۔‘‘ یہ ایسے شخص کے بارے میں ہے،جس کے پاس کسی کا حق ہو،لیکن حق والے کے پاس ثبوت نہ ہو،اس کمزوری سے فائدہ اُٹھا کر وہ عدالت یا حاکمِ مجاز سے اپنے حق میں فیصلہ کروالے اور اس طرح دوسرے کا حق غصب کر لے۔یہ ظلم اور حرام ہے۔عدالت کا فیصلہ ظلم اور حرام کو جائز اور حلال نہیں کر سکتا،یہ ظالم عنداللہ مجرم ہوگا۔[1] 2۔ سورۃ النساء (آیت:۲۹) میں ارشادِ الٰہی ہے: {یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ} [1] مختصر تفسیر ابن کثیر للرفاعي (۱/ ۱۵۰)