کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 348
’’میں نے اپنے بندوں کو حنیف پیدا کیا،پس شیطان نے ان کو دین سے گمراہ کر دیا اور جو چیزیں میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں،وہ اس نے ان پر حرام کر دیں۔‘‘[1] 2۔ سورۃ البقرۃ (آیت:۲۰۸) میں ارشادِ الٰہی ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ’’مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمھارا صریح دشمن ہے۔‘‘ اہلِ ایمان کو کہا جا رہا ہے کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جائو اور اس طرح نہ کرو کہ جو باتیں تمھاری مصلحتوں اور خواہشا ت کے مطابق ہوں،ان پر تو عمل کر لو،لیکن دوسرے حکموں کو نظر انداز کر دو،اس طرح جو دین تم چھوڑ آئے ہو،اس کی باتیں اسلام میں شامل کرنے کی کوشش مت کرو،بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپنائو۔ اس سے دین میں بدعات کی بھی نفی کر دی گئی اور آج کل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی،جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لیے تیار نہیں،بلکہ دین کو عبادت،یعنی مساجد تک محدود کرنا اور سیا ست اور ایوانِ حکومت سے دیس نکالا دینا چاہتا ہے۔اسی طرح عوام کو بھی سمجھایا جا رہا ہے،جو رسوم و رواج اور علاقائی ثقافت و روایات کو پسند کرتے ہیں اور انھیں چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے،جیسے مرگ اور شادی بیاہ کی مسرفانہ اور ہندوانہ رسوم اور دیگر رواج وغیرہ اور یہ کہا جا رہا ہے کہ شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو،جو تمھیں خلافِ اسلام باتوں کے لیے حسین فلسفے تراش کر پیش کرتا،برائیوں پر خوش نما غلاف چڑھاتا اور بدعات کو بھی نیکی باور کراتا [1] صحیح مسلم،کتاب الجنّۃ (۶۳/ ۲۸۶۵)