کتاب: قرآن مجید میں احکامات و ممنوعات - صفحہ 343
مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ} ’’جو لوگ ہمارے احکام اور ہدایات کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرضِ فاسد سے) چھپاتے ہیں،باوجودیکہ ہم نے اُن کو لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کر دیا ہے،ایسے لوگوں پر اللہ اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جو باتیں اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہیں،انھیں چھپانا اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ کے علاوہ دیگر لعنت کرنے والے بھی اس پر لعنت کرتے ہیں۔حدیث میں ہے: ’’جس سے کوئی ایسی بات پوچھی گئی،جس کا اس کو علم تھا اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت والے دن آگ کی لگام اس کے منہ میں دی جائے گی۔‘‘[1] -7 شک نہ کرو: 1۔ سورۃ البقرۃ (آیت:۱۴۷) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ} ’’(اے پیغمبر! یہ نیا قبلہ) تمھارے رب کی طرف سے حق ہے تو تم ہر گز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‘‘ پیغمبر پر اللہ کی طرف سے جو بھی حکم اترتا ہے،وہ یقینا حق ہوتا ہے،اس میں شک و شبہے کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔ 2۔ اسی طرح سورت آل عمران (آیت:۶۰) میں ارشادِ الٰہی ہے: {اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ} [1] سنن أبي داود،کتاب العلم،سنن الترمذي،رقم الحدیث (۶۵۱ و حسنہ) والنسائي و سنن ابن ماجہ،مسند أحمد و المستدرک للحاکم و صححہ الألباني في صحیح الجامع (۶۲۸۴)